مامتا (چیخوف)

 مامتا (چیخوف)


چیخوف ایک روسی ادیب تھے ۔ایک مختصر کہانی احساس پر لکھی ہے ۔یہ کہانی ہماری معاشرتی بے حسی کی نظر ۔۔۔۔۔۔


‏ایک تانگہ والا تھا. غریب اور مجبور. اس کا دس بارہ سال کا بچہ بہت بیمار تھا. وہ اس کا علاج نہ کروا سکتا تھا لہٰذا گھر پر ہی اس کی تیمارداری کر رہا تھا. 


رات کو بچہ فوت ہو گیا اور وہ اس کے سرہانے ہی روتا رہا. صبح ہوئی تو تانگہ جوتا کہ باقی بچوں کا پیٹ تو پالنا تھا۔۔


‏ایک سواری ملی راستے میں اس نے سواری کو بتایا کے رات اس کا بچہ مر گیا۔۔۔۔

‏سواری نے کہا بہت افسوس ہوا اور خاموش ہو گئی ۔۔۔۔


اسے اتارا، پھر دوسری سواری مل گئی 

یہ کچھ خواتین تھیں۔۔۔۔۔

 اس نے انہیں بھی بتایا کہ رات اس کا بچہ بغیر علاج کے مر گیا ۔۔۔۔

انہوں نے بھی کہا بہت افسوس ہوا مگر خدا کی مرضی ہے کوئی کیا کر سکتا ہے اور اپنی باتوں میں لگ گئیں۔۔۔۔


‏پھر دو چار اور سواریاں بھی ملیں اور ایسے ہی ہوتا رہا۔۔۔۔


‏شام کو گھر پہنچا تو ٹوٹ چکا تھا گھوڑی کو تانگے سے کھولتے ہوۓ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔۔۔۔

۔

‏گھوڑی کے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹکا کر رو پڑا اور کہنے لگا، 

۔

تُو تو ماں ہے، تُو تو میرا دکھ سمجھ سکتی ہے. میرا بچہ مر گیا ہے۔۔۔


‏روتے روتے اسکی ہچکی بندھ گئی اسکے اس کے ساتھ گھوڑی کی آنکھوں سے بھی آنسو چھلکنے لگا۔۔۔۔۔


#kitabaorkahani #chekhov #novel #story #kahani

Comments

Popular posts from this blog

ہم پاکستانی ایک منافق قوم ہیں

ساجھے کی ہنڈیا۔۔۔۔ ( ستونت کور)

مرے ہوئے بھی گھر والوں کے لئے بندوبست