Posts

Showing posts from March, 2024

ساجھے کی ہنڈیا۔۔۔۔ ( ستونت کور)

  ساجھے کی ہنڈیا۔۔۔۔ ( ستونت کور ) 2013 میں ایک چینی 🇨🇳 کاروباری شخص بنام "تان یوہو" ۔  نے اپنے ایک حریف کو 'ٹھکانے' لگانے کے لیے ایک  پیشہ ور قاتل کی خدمات حاصل کیں اور اسے اس کام کے لیے 2 لاکھ 82 ہزار ڈالرز کے مساوی رقم کی ادائیگی کی۔۔۔ ✓ اس ٹارگٹ کلر نے اس کام کے لیے 1 لاکھ 41 ہزار ڈالرز کے عوض ایک اور ٹارگٹ کلر کو ہائر کر لیا۔ ✓ اس ٹارگٹ کلر نے ایک اور ٹارگٹ کلر کو ہائر کر لیا۔ ✓ اس ٹارگٹ کلر نے ایک اور ٹارگٹ کلر کو ہائر کر لیا۔ ✓ اس ٹارگٹ کلر نے ایک اور ٹارگٹ کلر کو ہائر کر لیا۔ ✓ یہاں تک کہ اس ٹارگٹ کلر نے 14 ہزار ڈالرز کے عوض ایک اور ٹارگٹ کلر کو ہائر کرلیا ۔۔۔۔ آخری ٹارگٹ کلر نے جاکر ٹارگٹ سے کہا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے خود کو مردہ ظاہر کرتے ہوئے روپوش ہو جائے ۔. ہدف نے فوراً پولیس کو اطلاع کردی ۔۔۔۔ سب ٹارگٹ کلرز دھر لیے گئے اور انہوں نے تان یوہو کی نشاندہی کردی۔ ۔۔۔۔۔ عدالت نے سب کو 5 سال قید کی سزا سنا دی !! #China #international #aalmiadab #kitabaorkahani

بیٹیاں اللہ کی رحمت

 لڑکیوں کے اسکول میں آنے والی نئی ٹیچر انتہائی خوبصورت اور تعلیمی طور پر بھی مضبوط تھی لیکن اس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی ... تمام لڑکیاں اس کے ارد گرد جمع ہو گئیں اور مذاق کرنے لگی کہ میڈم آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی ...؟ میڈم نے داستان کچھ یوں شروع کی- ایک عورت کی پانچ بیٹیاں تھیں، شوہر نے اس کو دھمکی دی کہ اگر اس بار بھی بیٹی ہوئی تو اس کی بیٹی کو باہر کسی سڑک یا چوک پر پھینک آؤں گا، خدا کی مرضی وہ ہی جانے کہ چھٹی بار بھی بیٹی ہی پیدا ہوئی اور شوہر نے بیٹی کو اٹھایا اور رات کے اندھیرے میں شہر کے بیچوں بیچ چوک پر رکھ آیا، ماں پوری رات اس ننھی سی جان کے لئے دعا کرتی رہی اور بیٹی کو خدا کے سپرد کر دیا. دوسرے دن صبح والد جب چوک سے گزرا تو دیکھا کہ کوئی بچی کو نہیں لے گیا ہے، باپ بیٹی کو واپس گھر لایا لیکن دوسری رات پھر بیٹی کو چوک پر رکھ آیا لیکن روز یہی ہوتا رہا، ہر بار والد باہر رکھ آتا اور جب کوئی لے کر نہیں جاتا تو مجبورا واپس اٹھا لاتا، یہاں تک کہ اس کا باپ تھکا ہوا اور خدا کی مرضی پر راضی ہو گیا. پھر خدا نے کچھ ایسا کیا کہ ایک سال بعد ماں پھر پیٹ سے ہو گئی اور اس بار ان ب...

ہم پاکستانی ایک منافق قوم ہیں

 ہمارے تھانے رشوت کا گڑھ ہیں، مگر وہاں لکھا ہوتا ہے "رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں" ہماری کچہری میں 200 روپے میں گواہ مل جاتا ہے، مگر وہاں لکھا ہوتا ہے "جھوٹی گواہی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے" ہمارے عدالتوں میں انصاف نیلام ہوتا ہے، مگر وہاں لکھا ہوتا ہے "لوگوں کے درمیان حق مطابق فیصلہ کرو" ہماری درسگاہیں جہالت بیچتی ہیں، مگر وہاں لکھا ہوتا ہے "علم حاصل کرو، ماں کی گود سے لیکر قبر کی گود تک" ہمارے ہسپتال موت بانٹنتے ہیں، مگر وہاں لکھا ہوتا ہے "اور جس نے ایک زندگی بچائی، گویاں اس نے سارے انسانوں کو بچایا" ہمارے بارے جھوٹ، حیانت اور ملاوٹ کے اڈے ہیں، مگر وہاں لکھا ہوتا ہے "جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں" ہم جو لکھتے ہیں یہ ہمارا عقیدہ ہے اور کرتے ہیں یہ ہمارا عمل ہے۔ جب عمل عقیدے کے خلاف ہو تو اسے منافقت کہتے ہیں

مامتا (چیخوف)

  مامتا (چیخوف) چیخوف ایک روسی ادیب تھے ۔ایک مختصر کہانی احساس پر لکھی ہے ۔یہ کہانی ہماری معاشرتی بے حسی کی نظر ۔۔۔۔۔۔ ‏ایک تانگہ والا تھا. غریب اور مجبور. اس کا دس بارہ سال کا بچہ بہت بیمار تھا. وہ اس کا علاج نہ کروا سکتا تھا لہٰذا گھر پر ہی اس کی تیمارداری کر رہا تھا.  رات کو بچہ فوت ہو گیا اور وہ اس کے سرہانے ہی روتا رہا. صبح ہوئی تو تانگہ جوتا کہ باقی بچوں کا پیٹ تو پالنا تھا۔۔ ‏ایک سواری ملی راستے میں اس نے سواری کو بتایا کے رات اس کا بچہ مر گیا۔۔۔۔ ‏سواری نے کہا بہت افسوس ہوا اور خاموش ہو گئی ۔۔۔۔ اسے اتارا، پھر دوسری سواری مل گئی  یہ کچھ خواتین تھیں۔۔۔۔۔  اس نے انہیں بھی بتایا کہ رات اس کا بچہ بغیر علاج کے مر گیا ۔۔۔۔ انہوں نے بھی کہا بہت افسوس ہوا مگر خدا کی مرضی ہے کوئی کیا کر سکتا ہے اور اپنی باتوں میں لگ گئیں۔۔۔۔ ‏پھر دو چار اور سواریاں بھی ملیں اور ایسے ہی ہوتا رہا۔۔۔۔ ‏شام کو گھر پہنچا تو ٹوٹ چکا تھا گھوڑی کو تانگے سے کھولتے ہوۓ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔۔۔۔ ۔ ‏گھوڑی کے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹکا کر رو پڑا اور کہنے لگا،  ۔ تُو تو ماں ہے، تُو ت...

مرے ہوئے بھی گھر والوں کے لئے بندوبست

جیل میں پھانسی کی سزا پانے والا مجرم افسردہ بیٹھا تھا۔۔ دو اور قیدی اسکو دلاسہ دینے بیٹھ گئے قیدی نے کہا ۔۔۔ یار یہ دنیا فانی ہے ہم سب نے ایک دن جانا ہے بس ایک قطار میں سب کھڑے ہیں کوئی اگے تو کوئی پیچھے اور موت سے تو کا۔۔ فر لوگ ڈرتے ہیں ہم تو ماشااللہ مسلمان ہیں پھانسی کی سزا پانے والا مجرم نے کہا  میں موت سے نہیں ڈرتا بس ایک فکر کھائے جارہاہے۔۔ دوسرے قیدی نے پوچھا۔۔ کیا مطلب؟ پھانسی ولا مجرم:  کچھ سال پہلے میں نے ایک بینک لوٹا تو میں نے کچھ پیسے خرچ کیۓ باقی 5 کروڑ 60 لاکھ میں نے پرانے ماڈل کے TV میں رکھ دیۓ ہیں جو ہمارے گھر کے ایک کونے میں پڑا ہیں کل مجھے پھانسی دے دی جائے گی اور میری بیوی کو پتہ تک نہیں چلیگا۔۔ قیدی نے وعدہ کیا میں تمہاری بیوی کو بتا دونگا بس آپ ہمیں اپنے گھر کا پتہ دے دیجئے پھانسی والے مجرم نے پورا پتہ بتا دیا کچھ عرصہ بعد دونوں قیدی رہا ہوۓ تو مطلوبہ پتہ پر پوری تیاری کے ساتھ روانہ ہوئے جب پہنچے تو اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا ایک عورت نے دروازے کھول کر پوچھا۔۔ جی فرمائیں۔۔۔ قیدی 1 جی ہم اولڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کے طرف سے آئے ہیں آپکے گھر میں جو چیز بھی پرانا ...